اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے اُنھیں اللّٰہ سے بچالیں گے تو اللّٰہ کا حکم ان کے پاس آیا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا کہ اپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں تو عبرت لو اے نگاہ والو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کی پاکی بیان کی ہر اس چیز نے جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور وہی بہت عزت والا، بڑا حکمت والا ہے۔وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے ان کے پہلے حشر کے وقت نکالا۔ تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللّٰہ سے بچالیں گے تو اللّٰہ کا حکم ان کے پاس وہاں سے آیا جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا اور اس نے ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا وہ اپنے گھروں کواپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے ویران کرتے ہیں تو اے آنکھوں والو!عبرت حاصل کرو۔
{سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ: اللّٰہ کی پاکی بیان کی ہر اس چیز نے جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر چیز زبانِ قال یا حال سے اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے جسے ہم نہیں سمجھتے، مگر ان کی تسبیح کی تاثیر جداگانہ ہے جیسے سبزے کی تسبیح سے عذابِ قبر دور ہوتا ہے۔
{هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَ جَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ: وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو نکالا۔ } شانِ نزول: مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ سورت بنو نَضِیْر کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو اُنہوں نے حضورسے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہو کر کسی سے لڑیں گے اور نہ آپ سے جنگ کریں گے۔ جب جنگ ِبدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنونضیر نے کہا: یہ وہی نبی ہیں جن کی صفت تَورات میں ہے، پھر جب اُحد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اورجو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے پردے تھام کر قریش کے سرداروں سے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلاف معاہدہ کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ کے علم دینے سے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس حال پر مُطّلع تھے اور بنو نضیر سے ایک خیانت اور بھی واقع ہوچکی تھی کہ انہوں