Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
645 - 881
(1)…اس کی ابتداء میں  قیامت کی ہَولْناکیاں ،کفار کی بد بختی،مسلمانوں  کی خوش بختی،اہلِ جنت اور اہلِ جہنم کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیَّت،قدرت اور علم و حکمت پر اونٹ کی تخلیق،آسمان کی بلندی،پہاڑوں  کو زمین میں  نَصب کرنے اورزمین کو بچھانے کے ذریعے اِستدلال کیا گیا ہے۔
(3)…اس سورت کے آخر میں  حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے فرمایا گیا کہ آپ کی ذمہ داری صرف نصیحت کر دینا ہے کسی کو مسلمان کر کے ہی چھوڑنا آپ کی ذمہ داری نہیں  اور یہ بتایاگیا کہ جو کفر کرے گا اللّٰہ تعالیٰ اسے بڑا عذاب دے گا اور قیامت کے دن سب لوگ حساب اور جزا کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حاضر ہوں  گے۔
سورۂ اعلیٰ کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ غاشیہ کی اپنے سے ما قبل سورت ’’اعلیٰ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ اعلیٰ میں  مسلمانوں ، کافروں ، جنت اور جہنم کے اوصاف اِجمالی طور پر بیان ہوئے اور سورۂ غاشیہ میں  ان چیزوں  کو تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔( تناسق الدّرر، سورۃ الغاشیۃ، ص۱۳۶)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی۔