Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
644 - 881
سورۂ غَاشِیَہ
سورۂ غاشیہ کا تعارف
مقامِ نزول:
	 سورئہ غاشیہ مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الغاشیۃ، ۴/۳۷۱)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  1رکوع،26 آیتیں ہیں ۔
’’غاشیہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	غاشیہ کا معنی ہے چھا جانے والی چیز،اور اس کی پہلی آیت میں  یہ لفظ موجود ہے اسی مناسبت سے اسے ’’سورۂ غاشیہ‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ غاشیہ سے متعلق حدیث:
	حضرت ضحاک بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف خط لکھ کر پوچھا کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ جمعہ کی نماز میں  سورۂ جمعہ کے ساتھ کونسی سورت کی تلاوت فرماتے تھے؟آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ جمعہ کی نماز میں  ’’هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ‘‘ کی تلاوت فرماتے تھے۔( ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا،باب ما جاء فی القراء ۃ فی الصلاۃ یوم الجمعۃ،۲/۲۴،الحدیث:۱۱۱۹)
سورۂ غاشیہ کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  اسلام کے بنیادی عقائد بیان کئے گئے ہیں  اوراس میں  یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ۔