Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
646 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہارے پاس چھا جانے والی مصیبت کی خبر آچکی۔
{هَلْ اَتٰىكَ: بیشک تمہارے پاس آچکی۔} اس آیتِ مبارکہ میں  نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے خطاب ہے کہ اے دو عالَم کے سردار! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، آپ کے پاس ایسی مصیبت کی خبر آچکی جو چھا جانے والی ہے۔ اس سے مراد قیامت ہے جس کی شدّتیں  اور ہَولْناکیاں  ہر چیز پر چھا جائیں  گی۔ (روح البیان ، الغاشیۃ ، تحت الآیۃ : ۱، ۱۰/۴۱۲ ، مدارک، الغاشیۃ، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۳۴۲، خازن، الغاشیۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۷۱)  یونہی اس دن کافروں  کے دلوں  پر غشی اور چہروں  پر سیاہی چھا جائے گی جبکہ فرمانبردارمسلمانوں  کے دلوں  پر خوشی اور چہروں  پر روشنی چھا جائے گی۔
وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ خَاشِعَةٌۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: کتنے ہی منہ اس دن ذلیل ہوں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بہت سے چہرے اس دن ذلیل و رسواہوں  گے۔
{وُجُوْهٌ: کتنے ہی منہ۔} قیامت کی خبر کا تذکرہ کرنے کے بعد یہاں  ان اَحوال کا بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے دن ظاہر ہوں  گے چنانچہ بہت سے چہرے جو دنیا میں  اللّٰہ والوں  کے رُوبَرُو اکڑتے تھے، وہاں  ہر طرح ذلیل ہوں  گے، قبروں  سے سر کے بل چل کر محشر میں  پہنچیں  گے، وہاں  منہ کالے ، دونوں  ہاتھ بندھے ہوئے اورگلے میں  طوق ہو گا، ہر دروازے پر بھیک مانگیں  گے مگر دھتکارے جائیں  گے اورایک دوسرے پر لعنت کررہے ہوں  گے۔
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ(۳) تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: کام کریں  مشقت جھیلیں ۔ جائیں  بھڑکتی آگ میں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کام کرنے والے، مشقتیں  برداشت کرنے والے۔ بھڑکتی آگ میں  داخل ہوں  گے۔