Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
642 - 881
آخرت میں  جنت کی دائمی نعمتیں  حاصل کرنے کی کوشش کرے جبکہ فی زمانہ مسلمانوں  کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی دنیا بہتر بنانے میں  ایسی مصروف ہے کہ اسے اپنی آخرت کی کوئی فکر نہیں  ۔دنیا اور آخرت کے بارے میں  اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘(انعام:۳۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے اور بیشک آخرت والا گھر ڈرنے والوں  کے لئے بہتر ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟
	اور ارشاد فرمایا: ’’اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْاؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘(یوسف:۱۰۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا یہ لوگ زمین پرنہیں  چلے تاکہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلوں  کا کیا انجام ہوااور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں  کے لیے بہتر ہے۔تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟
	 اور ارشاد فرمایا: ’’مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَۚ-یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۱۸)وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا‘‘(بنی اسرائیل:۱۸،۱۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو جلدی والی (دنیا) چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں  اس کیلئے دنیا میں  جو چاہتے ہیں  جلد دیدیتے ہیں  پھر ہم نے اس کیلئے جہنم بنارکھی ہے جس میں  وہ مذموم،مردود ہوکر داخل ہوگا۔ اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں  جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
	لہٰذا اے بندے! ’’وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو مال تجھے اللّٰہ نے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے اپنا حصہ نہ