Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
641 - 881
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو ۔اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ۔بیشک یہ اگلے صحیفوں  میں  ہے۔ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں  میں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔بیشک یہ بات ضرور اگلے صحیفوں  میں  ہے۔ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں  میں ۔
{بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا: بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے اور جو چیز باقی رہنے والی ہے وہ فانی سے بہتر ہے اور اے لوگو!تمہارا حال یہ ہے کہ تم دنیاکی فانی زندگی کو آخرت کی باقی رہنے والی زندگی پرترجیح دیتے ہو اسی لئے تم وہ عمل نہیں  کرتے جو وہاں  کام آئیں  گے ۔بیشک پاکی حاصل کرنے والوں  کے کامیاب ہونے اور آخرت کے بہتر ہونے کی بات قرآنِ پاک سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہونے والے صحیفوں  میں  بھی موجود ہے۔
	بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ یہ بات تمام صحیفوں  میں  موجود ہے اور انہی میں  سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحیفے بھی ہیں ۔
	حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’دنیا چونکہ ہمارے سامنے موجود ہے اور ا س کا کھانا، پینا،عورتیں ،دنیا کی لذتیں  اور اس کی رنگینیاں  ہمیں  جلد دیدی گئیں  جبکہ آخرت ہماری نظروں  سے غائب ہے، اس لئے جو چیز ہمیں  جلد مل رہی ہے ہم اسے پسند کرنے لگ گئے اور جو بعدمیں  ملے گی اسے ہم نے چھوڑ دیا۔( خازن، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۹، ۴/۳۷۱، مدارک، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۹، ص۱۳۴۱، ملتقطاً)
دُنْیَوی زندگی کی لذتوں  میں  کھو کر آخرت کو نہ بھلا دیا جائے:
	اس سے معلوم ہو اکہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ دُنْیَوی زندگی کی فانی لذتوں ، رنگینیوں  اور رعنائیوں  میں  کھو کر اپنی آخرت کو نہ بھول جائے بلکہ وہ اپنی سانسوں  کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت میں  گزارے اور