منورہ میں نازل ہوا۔
صوفیا ء کے نزدیک تَزکِیَہ کا مطلب:
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تحریر فرمایا ہے کہ صوفیاء کے نزدیک تَزْکِیَہ کا (مطلب) دل (کو) بُرے عقیدے، بُرے خیالات (اور) تصور ِغیر سے پاک کرنا ہے۔ دل کی صفائی یا وہبی ہے یا کسبی یا عطائی۔ وہبی تزکیہ پیدائشی ہوتا ہے، کسبی اپنے اعمال سے (جبکہ) عطائی کسی کی نظر سے ، جیسے بادل اور سورج دور رہتے ہوئے بھی گندی زمین کو پاک کر دیتے ہیں ، ایسے ہی اللّٰہ والوں کی نظر دور سے بھی گندے دلوں کو پاک کردیتی ہے۔( نور العرفان، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۹۷۷)
وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس نے اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی۔
{وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى: اور اس نے اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی۔} یعنی اور اس نے نماز شروع کرنے کی تکبیر کہہ کر پانچوں نمازیں پڑھیں ۔ اس آیت سے نماز شروع کرنے کی تکبیر ثابت ہوئی اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ نماز کا حصہ نہیں ہے کیونکہ نماز کا اس پر عطف کیا گیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ہر نام سے نماز شروع کرنا جائز ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہاہے کہ ’’تَزَكّٰى‘‘ سے صدقۂ فطر دینا اور رب کا نام لینے سے عید گاہ کے راستے میں تکبیریں کہنا اور نماز سے نماز عید مراد ہے۔( مدارک، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۱۳۴۱، تفسیرات احمدیہ، الاعلی، ص۷۴۰، ملتقطاً)
بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ(۱۶) وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷)اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ(۱۸) صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠(۱۹)