Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
639 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: عنقریب وہ نصیحت مانے گاجو ڈرتا ہے ۔اور نصیحت سے وہ بڑا بدبخت دور رہے گا۔جو سب سے بڑی آگ میں  جائے گا۔پھروہ نہ اس میں  مرے گا اور نہ جئے گا۔
{سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰى: عنقریب وہ نصیحت مانے گاجو ڈرتا ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، عنقریب آپ کی نصیحت وہ مانے گا جو اللّٰہ تعالیٰ سے اور اپنے برے انجام سے ڈرتا ہے اور آپ کی نصیحت سے وہ دور ہو گااور اس نصیحت کو قبول نہیں  کرے گا جو آپ کا دشمن بن کر بڑا بدبخت کافر ہے ،جیسے ولید بن مغیرہ اور ابو جہل وغیرہ اور وہ بد بخت کافر جہنم کی سب سے بڑی آگ میں  جائے گا ،پھروہ نہ اس میں  مرے گا کہ مر کر ہی عذاب سے چھوٹ سکے اور نہ ایسا جینا جئے گا جس سے کچھ بھی آرام پاسکے۔( مدارک،الاعلی،تحت الآیۃ:۱۰-۱۳،ص۱۳۴۱، روح البیان،الاعلی،تحت الآیۃ:۱۰-۱۳،۱۰/۴۰۸-۴۰۹،ملتقطاً)
	 اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص نصیحت کو تسلیم کرتا ہے وہ خَشیَت ِ الٰہی کے زیور سے آراستہ ہے ۔ 
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا۔
{قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى: بیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا۔} اس آیت میں  لفظ ’’تَزَكّٰى‘‘ کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد خود کو کفر و شرک اور گناہوں  سے پاک کرنا ہے ۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نماز کے لئے طہارت حاصل کرنا ہے۔ اس صورت میں  اس آیت سے نماز کے لئے وضو اورغسل کرناثابت ہوتا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے زکوٰۃ ادا کر کے مال کو پاک کرنا مراد ہے،اس صورت میں  یہ آیت زکوٰۃ فرض ہونے پر دلالت کرتی ہے۔( تفسیرات احمدیہ، الاعلی، ص۷۴۰)  لیکن اس آیت کے زکوٰۃ سے متعلق ہونے پر اِشکال ہے کیونکہ یہ سورت مکی ہے جبکہ زکوٰۃ کا حکم مدینہ