اور ارشاد فرمایا: ’’اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔
اور ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَاؕ-اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْۙ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ‘‘(حم السجدہ:۴۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں تو کیا جسے آ گ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت میں امان سے آئے گا۔ تم جو چاہو کرتے رہو ،بیشک اللّٰہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
اورحضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جس نے اپنے اور اللّٰہ تعالیٰ کے مابین معاملے کو اچھا کر لیا تو اللّٰہ تعالیٰ اسے ا س کے اور لوگوں کے درمیان معاملے کو کافی ہو گا اور جس نے اپنے باطن کی اصلاح کر لی تو اللّٰہ تعالیٰ ا س کے ظاہر کو درست کر دے گا۔ (جامع صغیر، حرف المیم، ص۵۰۸، الحدیث: ۸۳۳۹)
لہٰذاہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے باطن کو سنوارنے کی بھر پور کوشش کرے اور اس کے لئے یہ دعا بھی مانگا کرے، چنانچہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں مجھے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے یہ دعا سکھائی ’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ سَرِیْرَتِیْ خَیْرًا مِّنْ عَلاَنِیَتِیْ وَاجْعَلْ عَلاَنِیَتِیْ صَالِحَۃً، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِی النَّاسَ مِنَ الْمَالِ وَالْاَہْلِ وَالْوَلَدِ غَیْرِ الضَّآلِّ وَلاَ الْمُضِلِّ‘‘ اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، میر ا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک و صالح بنادے ۔ اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، میں تجھ سے وہ اچھا گھر بار ، مال اولاد، جو نہ گمراہ ہو اور نہ گمراہ گر ہو مانگتا ہوں جو تو لوگوں کو دیتا ہے۔( ترمذی، احادیث شتی، ۱۲۳-باب، ۵/۳۳۹، الحدیث: ۳۵۹۷)