وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم تمہارے لیے آسانی کا سامان کردیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم تمہارے لئے آسانی کا سامان کردیں گے۔
{وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰى: اور ہم تمہارے لیے آسانی کا سامان کردیں گے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم آپ کواس طریقے کی توفیق دیں گے جس سے آپ کے لئے وحی کو یاد کرنا آسان اور سہل ہو جائے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم آپ کو ایسے اعمال کرنے کی توفیق عطا کریں گے جس سے جنت کا راستہ آسان ہو جائے گا۔تیسرا معنی یہ ہے کہ ہم آپ پر وحی کا نازل ہونا آسان کر دیں گے تاکہ آپ سہولت کے ساتھ وحی یاد کر سکیں ، اسے جان سکیں اور اس پر عمل کر سکیں ۔چوتھا معنی یہ ہے کہ ہم آ پ پر آسان شرعی احکام اور قوانین نازل کریں گے (اور ان پر عمل کرنا لوگوں کے لئے دشوار نہ ہوگا)۔( تفسیرکبیر، الاعلی، تحت الآیۃ: ۸، ۱۱/۱۳۲، مدارک، الاعلی، تحت الآیۃ: ۸، ص۱۳۴۱، ملتقطاً)
فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو تم نصیحت فرماؤ اگر نصیحت کام دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تم نصیحت فرماؤ اگر نصیحت فائدہ دے۔
{فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى: تو تم نصیحت فرماؤ ، گر نصیحت فائدہ دے۔} یعنی اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر نصیحت فائدہ دے اور کچھ لوگ اس سے فائدہ حاصل کریں تو آپ اس قرآنِ مجید سے نصیحت فرمائیں ۔
نصیحت فائدہ دے یا نہ دے، بہر حال نصیحت کرنے کا حکم ہے:
یاد رہے کہ یہاں نصیحت کرنے میں جو نصیحت فائدہ دینے کی شرط لگائی گئی ،اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر نصیحت