(4)…یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں بھولنے سے معروف معنی مراد ہوں یعنی عارضی طور پر بھول جانا،اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، آپ قرآن مجیدمیں سے کچھ نہ بھولیں گے البتہ جو اللّٰہ تعالیٰ خود چاہے وہ بھول جائیں گے ،پھر وہ چیز ہمیشہ کے لئے بھولی نہ رہے گی بلکہ بعد میں یاد آ جائے گی۔ اس معنی کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جن میں حضورِاَ قدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا کسی آیت کو بھول جانے کاذکر ہے اور ان سے یہ واضح ہوتا ہے بعض مواقع پر حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ (عارضی طور پر) کچھ آیات بھولے تھے اور آپ کا یہ بھولنا امت کے بھولنے کی طرح نہیں ہے ۔( تفسیرکبیر،الاعلی، تحت الآیۃ: ۷، ۱۱/۱۳۱، روح البیان، الاعلی، تحت الآیۃ: ۷، ۱۰/۴۰۶، روح المعانی، الاعلی، تحت الآیۃ: ۷، ۱۵/۴۴۴-۴۴۵، ملتقطاً)
{اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰى: بیشک وہ ہر کھلی اور چھپی بات کوجانتا ہے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، جب آپ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اورآپ کے دل میں جو قرآن بھول جانے کا خوف ہے اسے بھی جانتاہے، لہٰذا آپ اسے بھول جانے کا خوف نہ کریں ،یہ ہمارے ذمہ ِکرم پر ہے کہ آپ قرآن نہ بھولیں ۔( تفسیرکبیر، الاعلی، تحت الآیۃ: ۷، ۱۱/۱۳۱)
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ بندوں کے ظاہری افعال اور ان کے اقوال جانتا ہے اور ان کے پوشیدہ اقوال اور افعال سے بھی خبردارہے۔( تفسیر سمرقندی، الاعلی، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۴۷۰)
ظاہر و باطن دونوں کو درست رکھنا چاہئے:
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنا ظاہر بھی ٹھیک کرنا چاہئے اور اپنا باطن بھی درست رکھنا چاہئے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ اس کے ہر ظاہری ،باطنی قول اور فعل سے باخبر ہے،جیسا کہ ہمارے ظاہری اور پوشیدہ اعمال کے بارے میں ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ‘‘(انعام:۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ تمہاری ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے اور وہ تمہارے سب کام جانتا ہے۔