کے نام کی پاکی بیان کروجس نے تمام مخلوقات میں سے ہر مخلوق کو اس کی ذات اور صفات میں صحیح اندازے پر رکھا چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے آسمانوں ،ستاروں ،عَناصر، مَعادن،نباتات ، حیوانات اور انسانوں کو مخصوص جسامت عطا کی اور ان میں سے ہر ایک کے باقی رہنے کی مدت مُعَیَّن اندازے پر رکھی اور ان کی صفات،رنگ،ذائقے،بو، حسن، قباحت، سعادت، بدبختی،ہدایت اور گمراہی کی مقدارخاص اندازے پر رکھی ، اور راہ دکھانے کے بارے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اچھائی برائی اور سعادت و بدبختی کے راستے دکھا دئیے۔( تفسیرکبیر، الاعلی، تحت الآیۃ: ۳، ۱۱/۱۲۹، ملتقطاً)
انسان اچھا یا برا راستہ چننے کا اختیار رکھتا ہے:ـ
یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو راستے دکھادئیے ہیں اوران راستوں میں سے کسی ایک کو چن لینے پر اسے ایک طرح کاا ختیار بھی دے دیا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ وہ جس راستے کوچاہے اختیار کرے،جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ﳓ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا‘‘(دہر:۲،۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے آدمی کو ملی ہوئی منی سے پیدا کیا تاکہ ہم اس کا امتحان لیں توہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا۔ بیشک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، (اب) یا شکرگزار ہے اور یا ناشکری کرنے والا ہے۔
اور ارشاد فرمایا: ’’وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَاﭪ(۷) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاﭪ(۸) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا‘‘(شمس:۷۔۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈالی۔ بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا ۔اور بیشک جس نے نفس کو گناہوں میں چھپایا وہ ناکام ہوگیا۔