زیرِ تفسیر آیت کادوسرا معنی یہ ہے کہ اس رب عَزَّوَجَلَّ کے نام کی پاکی بیان کرو جس نے ہر مخلوق کی غذا اور روزی مقدر کی اور انسانوں کو ان کی غذاؤں ، دواؤں اوران کے دُنْیَوی اُمور کی ان چیزوں کی طرف راہ دی جن میں ان کی مَصلحت ہے اور درندوں ،پرندوں اور حشراتُ الارض کو ان کے مَعاش اور ان کی ضروریات کا راستہ دکھایا۔( جمل، الاعلی، تحت الآیۃ: ۳، ۸/۲۹۷)
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی ہر مخلوق کو اس کی روزی کا راستہ کس طرح دکھایا ہے ا س کا نظارہ اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو اپنی مقررہ روزی حاصل کرتے دیکھ کر کیا جا سکتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی اس رہنمائی کے عجائبات ہر جگہ دیکھے جاسکتے ہیں ۔حیوانات میں اس موضوع پر تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے امام دمیری رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب ’’حیات الحیوان‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔
وَ الَّذِیْۤ اَخْرَ جَ الْمَرْعٰىﭪ(۴) فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس نے چارہ نکالا۔پھر اسے خشک سیاہ کردیا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس نے چارہ نکالا۔پھر اسے خشک سیاہ کردیا۔
{وَ الَّذِیْۤ اَخْرَ جَ الْمَرْعٰى: اور جس نے چارہ نکالا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت کے ساتھ زمین سے مختلف اَقسام کی نباتات اور طرح طرح کی گھاس پیدا کی جسے جانور چرتے ہیں ،پھر اس کا سرسبز ہونا ختم کر کے اسے خشک سیاہ کردیا۔( روح البیان، الاعلی، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۱۰/۴۰۵، طبری، الاعلی، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۱۲/۵۴۳-۵۴۴، ملتقطاً)
دنیا اور اس کی نعمتوں کا حال:
ان آیات میں سرسبز چارے کا جو حال بیان کیا گیا کہ شروع میں سرسبز اور بعد میں خشک ہوکر سیاہ ، بے کار ہوجاتا ہے یہی حال دنیا اور اس کی نعمتوں کا بھی ہے کہ یہ اگرچہ سبزے کی طرح خوشنما نظر آتی ہیں لیکن یہ بہت جلد فنا ہونے والی ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ دُنْیَوی زندگی کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: