بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جوسب سے بلند ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنے رب کے نام کی پاکی بیان کروجو سب سے بلند ہے۔
{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى: اپنے رب کے نام کی پاکی بیان کروجو سب سے بلند ہے۔} یعنی اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، آپ ا س بات کو بیان فرمائیں کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنی ذات میں ،صفات میں ،اَسماء میں ، اَفعال میں اور اَحکام میں ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہے اور پاک جگہوں میں عزت و احترام کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔ (جلالین مع صاوی، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱، ۶/۲۳۴۸)
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔( مدارک، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۳۴۰)
اورحضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جب یہ آیت نازل ہوئی توسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اسے اپنے سجدے میں داخل کردو۔ (ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ، ۱/۳۳۰، الحدیث: ۸۶۹) یعنی سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہو۔
الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰىﭪ(۲)