(3)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں ’’نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اس سورت ’’سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى‘‘ سے محبت فرماتے تھے۔( مسند امام احمد، ومن مسند علیّ بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ، ۱/۲۰۶، الحدیث: ۷۴۲)
سورۂ اعلیٰ کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیَّت اورا س کی قدرت کوثابت کیا گیا ہے اور اس میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ،
(1)…اس سورت کی ابتداء میں ہر نقص و عیب سے اللّٰہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کاحکم دیاگیا اور اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت، وحدانیَّت اور علم و حکمت پر دلالت کرنے والے آثار ذکر کئے گئے۔
(2)…یہ بتا یاگیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے لئے قرآنِ مجید یاد کرنا آسان کر دیا ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔
(3)… حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو حکم دیا گیا کہ آپ قرآنِ مجید کے ذریعے نصیحت فرمائیں اور یہ بتایا گیا کہ جو اللّٰہ تعالیٰ اور اپنے برے انجام سے ڈرتا ہے وہ نصیحت مانے گا اور جو بڑا بد بخت ہے وہ آپ کی نصیحت قبول کرنے سے دور ہٹے گا۔
(4)…یہ فرمایا گیا کہ جس نے خود کوپاک کرلیا، اللّٰہ تعالیٰ کا نام لے کر نماز ادا کی اور دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دی تو وہ کامیاب ہو گیا۔
(5)…اس سورت کے آخر میں بتایا گیا کہ خود کوپاک کرنے والوں کا اپنی مراد کو پہنچنا اور آخرت کا بہتر ہونا قرآنِ مجید سے پہلے نازل ہونے والے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحیفوں میں بھی لکھا ہو اہے۔
سورۂ طارق کے ساتھ مناسبت:
سورۂ اعلیٰ کی اپنے سے ماقبل سورت’’طارق‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں انسان کی تخلیق اور نباتات سے متعلق کلام کیاگیا ہے۔ (تناسق الدّرر، سورۃ الاعلی، ص۱۳۵-۱۳۶)