Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
620 - 881
{اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ: بیشک اللّٰہ اس کے واپس کرنے پر ضرورقادر ہے۔} یعنی انسان کا اپنی تخلیق میں  غور کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ جس رب تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پہلی بار پیدا کر دیا تو وہ انسان کی موت کے بعد اسے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹا دینے پرخاص طور پر قادر ہے۔( صاوی، الطّارق، تحت الآیۃ: ۸، ۶/۲۳۴۶، مدارک، الطّارق، تحت الآیۃ: ۸، ص۱۳۳۸، ملتقطاً)
یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُۙ(۹) فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: جس دن چھپی باتوں  کی جانچ ہوگی ۔تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن چھپی باتوں  کو جانچا جائے گا ۔تو آدمی کے پاس نہ کچھ قوت ہوگی اورنہ کوئی مددگار۔
{یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُ: جس دن چھپی باتوں  کو جانچا جائے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جس دن چھپی باتوں  کو ظاہر کر دیا جائے گا تو اس دن مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کاا نکار کرنے والے آدمی کے پاس نہ کوئی ایسی قوت ہوگی جس سے وہ عذاب کو روک سکے اور نہ اس کا کوئی ایسا مددگار ہوگا جو اُسے عذاب سے بچا سکے۔ چھپی باتوں  سے مراد عقائد ،نیتیں  اور وہ اعمال ہیں  جن کو آدمی چھپاتا ہے اور قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ ان سب کو ظاہر کردے گا۔( مدارک، الطّارق، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ص۱۳۳۸-۱۳۳۹، خازن، الطّارق، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ۴/۳۶۹، ملتقطاً)
قیامت کے دن پوشیدہ اعمال ظاہر کر دئیے جائیں  گے :
	معلوم ہو اکہ بندے کے عقائد، نیتیں  اور اعمال اگرچہ دنیا میں  کسی پر ظاہر نہ ہو سکیں  لیکن قیامت کے دن اس کا کیا دھرا سب سامنے آجائے گا۔ چنانچہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ‘‘(یونس:۳۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہاں  ہر آدمی اپنے سابقہ اعمال کو جانچلے گا اور انہیں  اللّٰہ کی طرف لوٹایا جائے گا جو ان کا سچا مولیٰ ہے۔