اور ارشاد فرمایا: ’’یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ(۱۳) بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌ‘‘(قیامہ:۱۳،۱۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا بتادیا جائے گا۔بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھنے والا ہوگا۔
لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے ظاہری اعمال درست کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے باطنی اور پوشیدہ اعمال کو بھی درست کرے تاکہ قیامت کے دن لوگوں کے سامنے رسوا ہونے سے بچ سکے ۔
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ(۱۱) وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ(۱۲) اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ(۱۳) وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: آسمان کی قسم جس سے مینہ اترتا ہے۔ اور زمین کی جو اس سے کھلتی ہے۔ بیشک قرآن ضرور فیصلہ کی بات ہے ۔اور کوئی ہنسی کی بات نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس آسمان کی قسم جولوٹ لوٹ کر برستا ہے ۔اور پھاڑی جانے والی زمین کی۔ بیشک قرآن ضرور فیصلہ کردینے والا کلام ہے ۔اور وہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے۔
{وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ: اس آسمان کی قسم جولوٹ لوٹ کر برستا ہے۔} توحید اور حشر و نشر کے دلائل بیان فرمانے کے بعد یہاں سے زمین و آسمان کی قسم ارشاد فرما کر قرآنِ پاک کی حقیقت کو بیان کیا گیاہے،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی 3آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آسمان کی قسم جس سے بار بار بارش اترتی ہے اوراس زمین کی قسم جسے سبزہ نکالنے کیلئے پھاڑا جاتا ہے ،بیشک قرآن ضرور فیصلہ کردینے والا کلام ہے کہ یہ حق اورباطل میں فرق و اِمتیاز کردیتا ہے اور قرآن کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے جو نکمی اور بے کار ہو۔( تفسیرکبیر،الطّارق، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۴، ۱۱/۱۲۲-۱۲۳، خازن، الطّارق، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۴، ۴/۳۶۹، ملتقطاً)