Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
619 - 881
جان لے کہ جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا ہے وہ اُس انسان کی موت کے بعد جزا دینے کے لئے اسے دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ ا س دن کے لئے عمل کرے جس دن اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اسے جزا دی جائے گی۔( مدارک، الطّارق، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۳۳۸)
خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ(۶) یَّخْرُ جُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىٕبِؕ(۷) اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: جَسْت کرتے پانی سے۔جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں  کے بیچ سے۔بے شک اللّٰہ اس کے واپس کر دینے پر قادر ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔جو پیٹھ اور سینوں  کے درمیان سے نکلتا ہے ۔بیشک اللّٰہ اس کے واپس کرنے پر ضرورقادر ہے۔
{خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ: اچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔} یہاں  سے وہ چیز بیان کی گئی ہے جس سے اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی یعنی مرد اور عورت کے نطفوں  سے پیدا کیاجو کہ عورت کے رحم میں  مل کر ایک ہوجاتے ہیں  اور یہ نطفہ مَردوں  کی پیٹھ اور عورتوں  کے سینوں  کے درمیان سے نکلتا ہے۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ یہ پانی عورت کے سینے کے اس مقام سے نکلتا ہے جہاں  ہار پہنا جاتا ہے اوراِنہیں  سے منقول ہے کہ عورت کی دونوں  چھاتیوں  کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ منی انسان کے تمام اَعضاء سے برآمد ہوتی ہے اور اس کا زیادہ حصہ دماغ سے مرد کی پشت میں  آتا ہے اورعورت کے بدن کے اگلے حصے کی بہت سی ان رگوں میں  سے آتا ہے جوسینے کے مقام پر ہیں  ،اسی لئے یہاں  ان دونوں  مقامات کا ذکر خصوصیت سے فرمایا گیا۔( مدارک، الطّارق، تحت الآیۃ: ۶-۷، ص۱۳۳۸، خازن، الطّارق، تحت الآیۃ: ۶-۷، ۴/۳۶۸، ملتقطاً)