نگہبان مقررہے جو اس کے اعمال کی نگہبانی کرتا ہے او راس کی نیکی بدی سب لکھ لیتا ہے۔ حضر ت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ یہاں نگہبان سے مراد فرشتے ہیں ۔( خازن، الطّارق، تحت الآیۃ: ۱-۴، ۴/۳۶۸)
ان فرشتوں کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً‘‘(انعام:۶۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔
آیت ’’اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ۔
(1)… اگرچہ رب تعالیٰ اس بات پرقادر ہے کہ خود سب کی ہر طرح حفاظت فرمائے ، مگر قانون یہ ہے کہ یہ کام اس کے مقرر کردہ فرشتے کریں ۔
(2)… رب تعالیٰ کے بعض نام اس کے بندوں کو دے سکتے ہیں ، جیسے اللّٰہ تعالیٰ کا ایک نام حافظ ہے اور یہاں آیت میں فرشتوں کو حافظ بتایا گیا، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ہمارے حافظ وناصرہیں ۔
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: تو چاہیے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنا یا گیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: انسان کو غور کرنا چاہئے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔
{فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ: انسان کو غور کرنا چاہئے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے قسم ذکر فرما کر یہ بات ارشاد فرمائی کہ ہر جان پر ایک نگہبان مقرر ہے جو ا س کے اعمال کی نگہبانی کرتا ہے اور اس کے اعمال لکھ لیتا ہے اور اس آیت میں انسان کو اپنی تخلیق کی ابتداء میں غور کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تاکہ وہ یہ بات