Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
617 - 881
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ(۱) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ(۲) النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ(۳) اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی۔اور کچھ تم نے جا نا وہ رات کو آنے والا کیا ہے۔خوب چمکتا تارا۔کوئی جان نہیں  جس پر نگہبان نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔اورتمہیں  کیا معلوم کہ رات کو آنے والا کیا ہے؟خوب چمکنے والا ستارا ہے۔کوئی جان نہیں  مگر اس پر نگہبان موجود ہے۔ 
{وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ: آسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔} شانِ نزول :ایک رات سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی خدمت میں  ابو طالب کچھ ہدیہ لائے ،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اس کو تَناوُل فرما رہے تھے کہ اسی دوران ایک ستارا ٹوٹا اور پوری فضا آگ سے بھر گئی۔ ابو طالب گھبرا کر کہنے لگے کہ یہ کیا ہے؟نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’کہ یہ ستارہ ہے جس سے شَیاطین مارے جاتے ہیں  اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں  سے ہے۔ ابو طالب کو اس سے تعجب ہوا تو اللّٰہ تعالیٰ نے (اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی تصدیق میں ) یہ آیات نازل فرمائیں ۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی 3آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آسمان کی اور رات میں  خوب چمکنے والے ستارے کی قسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ ہر جان پر اس کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک