Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
609 - 881
 دے کرآزمائش میں  مبتلا کیا ، پھر اپنے ا س عمل سے تو بہ نہ کی تو ان کے لئے آخرت میں  جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے (قبر میں  بھی) آگ کا عذاب ہے۔( مدارک، البروج، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۳۳۶-۱۳۳۷، خازن، البروج، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۳۶۷، ملتقطاً)
اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بے شک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔
{اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌ: بے شک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، بے شک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ جب ظالموں  کو اپنے عذاب میں  پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے اگرچہ یہ پکڑ کچھ عرصہ ظالموں  کو مہلت دینے کے بعد ہو کیونکہ انہیں  مہلت دینا عاجز ہونے کی وجہ سے نہیں  بلکہ حکمت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (روح البیان، البروج، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰/۳۹۱-۳۹۲)
ظالموں  کے لئے نصیحت:
	اس آیت میں  ہر اس شخص کے لئے نصیحت ہے جو لوگوں  پر ظلم کرتا ہے کہ اگرچہ ابھی اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی پکڑ نہیں  فرمائی لیکن جب بھی اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے ظلم کی وجہ سے اس کی گرفت فرمائی تو وہ بہت سخت ہو گی اور یہ گرفت دنیا میں  بھی ہو سکتی ہے اور آخرت میں  بھی۔ جیساکہ 
	 حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اے لوگو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو،خدا کی قسم! جو مومن دوسرے مومن پر ظلم کرے گا توقیامت کے دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس ظالم سے انتقام لے گا۔( کنز العمال ، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال ، الباب الثانی فی الاخلاق و الافعال المذمومۃ ، الفصل الثانی ، ۲/۲۰۲، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۲۱)