’’قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُۙ-وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ‘‘(مائدہ:۵۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ : اے اہلِ کتاب! تمہیں ہماری طرف سے یہی برالگا ہے کہ ہم اللّٰہ پر اور جو ہماریطرف نازل کیا گیا اس پر اور جو پہلے نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے ہیں اور بیشک تمہارے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔
اورارشاد فرمایا: ’’وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِـعَ مِلَّتَهُمْؕ-قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰىؕ-وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ-مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ‘‘(بقرہ:۱۲۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہودی اور عیسائی ہرگز آپ سے راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کرلیں ۔ تم فرمادو: اللّٰہ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے اور (اے مخاطَب!)اگر تیرے پاس علم آجانے کے بعد بھی تو ان کی خواہشات کی پیروی کرے گا تو تجھے اللّٰہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ کوئی مددگارہوگا۔
مسلمانوں کے اَخلاق کیسے ہونے چاہئیں :
یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اخلاق ایسے بلند ہونے چاہئیں کہ کفار کومسلمانوں میں اخلاقی عیب نکالنے کا کوئی موقع نہ ملے بلکہ وہ مخالف رہیں توصرف ایما ن کی وجہ سے مسلمانوں کے مخالف رہیں ۔ اس سے موجودہ زمانے کے ان مسلمانوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جن کے برے اخلاق کو پیش کر کے دنیا بھر میں مسلمانوں کو اخلاق اور انسانیت سے عاری ثابت کر کے دین ِاسلام کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
مومن کی علامت :
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ کافر اس سے ناخوش رہیں اور مومن خوش رہیں ، لہٰذا جو کفار کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروف ہو وہ دین میں مُداہَنَت کرنے والا ہے۔اس سے ان لوگوں کو اپنے طرزِ