ترجمۂکنزالایمان: اور انھیں مسلمانوں کا کیا بُرا لگا یہی نہ کہ وہ ایمان لا ئے اللّٰہ عزت والے سب خو بیوں سرا ہے پر۔ کہ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اللّٰہ ہر چیز پر گواہ ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہیں مسلمانوں کی طرف سے صرف یہی بات بری لگی کہ وہ اس اللّٰہ پر ایمان لے آئے جو بہت عزت والا، ہر تعریف کے لائق ہے۔ وہ جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اللّٰہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
{وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ: اور انھیں مسلمانوں کی طرف سے صرف یہی بات بری لگی کہ وہ اللّٰہ پر ایمان لے آئے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ بادشاہ اور مسلمانوں کو آگ میں جلانے والے اس کے ساتھیوں کو مسلمانوں کی طرف سے صرف یہی بات بری لگی کہ وہ اس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لے آئے جو عزت والا اور ہر حال میں تعریف کے لائق ہے اور اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اس سلطنت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے اور اس سے مخلوق کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں بلکہ وہ ان کے تمام اعمال کو جانتا ہے۔( تفسیر قرطبی، البروج، تحت الآیۃ: ۸-۹، ۱۰/۲۰۸، الجزء التاسع عشر)
علامہ ابو سعودمحمد بن محمد عمادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ آیت (نمبر9) میں کھائی میں گرنے والے مسلمانوں کے لئے (جنت کا) وعدہ اور کھائی میں گرانے والے کافروں کے لئے (جہنم کے عذاب کی) وعید ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور اسی میں کفار اور مسلمانوں کے عمل بھی داخل ہیں اور ان کے اعمال کو جاننا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دونوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دی جائے۔( ابو سعود، البروج، تحت الآیۃ: ۹، ۵/۸۵۵)
کافر مومن کے کس عمل کی وجہ سے ا س کا دشمن ہے؟
آیت نمبر8سے معلوم ہو اکہ کافر مومن کے ایمان کی وجہ سے اس کا دشمن ہے اور کوئی مومن، مومن رہتے ہوئے کفار کو خوش نہیں کرسکتا۔یہی چیز قرآن مجید میں اور مقامات پر بھی بیان کی گئی ہے ،چنانچہ ایک مقام پر اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: