اور جھجک نہیں تو سچے دین پر ہے (اوروہ بچہ اور ماں بھی آگ میں ڈال دیئے گئے)۔( مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود... الخ، ص۱۶۰۰، الحدیث: ۷۳(۳۰۰۵))
اور حضرت ربیع بن انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جو مومن آگ میں ڈالے گئے اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کے آگ میں پڑنے سے پہلے ہی اُن کی رُوحیں قبض فرما کر انہیں نجات دی اور آگ نے خندق کے کناروں سے باہر نکل کر کنارے پر بیٹھے ہوئے کفار کو جلا دیا۔( خازن، البروج، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۳۶۶)
کھائی والوں کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس واقعہ سے 6 باتیں معلوم ہوئیں :
(1)…امام عبداللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس واقعہ میں اہلِ ایمان کو صبر کرنے اور کفارِ مکہ کی ایذا رسانیوں پر تَحَمُّل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔( مدارک، البروج، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۳۳۶)
(2)…اللّٰہ تعالیٰ کے اولیاء کی کرامات برحق ہیں ۔
(3) …ولایت عمل اور عمر پر مَوقوف نہیں بلکہ چھوٹے بچوں کو بھی ولایت مل جاتی ہے،حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مادر زاد وَلِیَّہ تھیں ۔
(4)… بزرگوں کی صحبت کا فیض عبادات سے زیادہ ہے۔
(5)… جس دین میں اولیاء موجود ہوں وہ اس دین کی حقّانِیَّت کی دلیل ہے۔
(6)…اللّٰہ والوں سے ان کی وفات کے بعد بھی ہدایت ملتی ہے۔
وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ(۸) الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ(۹)