Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
604 - 881
پھر جاؤ۔ اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے اسے بھی آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔پھر اس لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔اس لڑکے نے انکار کیا تو بادشاہ نے اپنے چند ساتھیوں  سے کہا:اس لڑکے کو فلاں  پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤ،اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو ٹھیک ورنہ اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔وہ لوگ اس لڑکے کو لے کر گئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔اس لڑکے نے دعا کی! اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔اسی وقت ایک زلزلہ آیا اور وہ سب لوگ پہاڑ سے نیچے گر گئے۔اس کے بعد وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا! جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا؟لڑکے نے جواب دیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا۔بادشاہ نے پھر اسے اپنے چند ساتھیوں  کے حوالے کیا اور کہا کہ اسے ایک کشتی میں  سوار کر کے سمندر کے وسط میں  لے جاؤ،اگر یہ اپنا دین چھوڑ دے تو ٹھیک ورنہ اسے سمندر میں  پھینک دینا۔وہ لوگ اسے سمندر میں  لے گئے تو ا س نے دعا کی:اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔وہ کشتی فوراً الٹ گئی اور اس لڑکے کے علاوہ سب لوگ غرق ہو گئے۔وہ لڑکا پھر بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے پوچھا:جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا؟اس نے کہا:اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا۔پھر اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں  کر سکو گے جب تک میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کرو۔بادشاہ نے وہ عمل پوچھا تو لڑکے نے کہا: تم ایک میدان میں  سب لوگوں کو جمع کرو اورمجھے کھجور کے تنے پر سولی دو، پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر نکال کر بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامْ  کہہ کر مجھے مارو،اگر تم نے ایساکیا تووہ تیرمجھے قتل کر دے گا۔چنانچہ بادشاہ نے تمام لوگوں  کو ایک میدان میں  جمع کیا اور اس لڑکے کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کر کے تیر چھوڑدیا، وہ تیر لڑکے کی کنپٹی میں  پَیْوَسْت ہو گیا،لڑکے نے تیر لگنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھا اورانتقال کرگیا۔ یہ دیکھ کر تمام لوگوں  نے کہا کہ ہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائے،ہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائے،ہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ کو اس واقعے کی خبردی گئی اور ا س سے کہا گیا کہ کیا تم نے دیکھا کہ جس سے تم ڈرتے تھے اللّٰہ تعالیٰ نے وہی کچھ تمہارے ساتھ کر دیا اور تمام لوگ ایمان لے آئے۔ اس نے گلیوں  کے دہانوں  پر خندقیں  کھودنے کا حکم دیا،جب ان کی کھدائی مکمل ہوئی تو ان میں  آگ جلوائی گئی،پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے آگ میں  ڈال دو۔چنانچہ لوگ اس آگ میں  ڈالے جانے لگے یہاں  تک کہ ایک عورت آئی اور اس کی گود میں  بچہ تھا ،وہ ذرا جھجکی توبچے نے کہا: اے ماں  صبر کر!