آنے پر) جادو گر اسے مارتا۔لڑکے نے راہب سے ا س کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں جا دو گر سے خوف ہو تو کہہ دینا:گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے خوف ہو تو ان سے کہہ دینا کہ جادو گر نے مجھے روک لیا تھا۔ یہ سلسلہ یونہی جاری تھا کہ اسی دوران ایک بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا، لڑکے نے سوچا :آج میں آزماؤں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب؟چنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا:اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، اگر تجھے راہب کے کام جادو گر سے زیادہ پسند ہیں تو اس پتھر سے جانور کو ہلاک کر دے تاکہ لوگ راستے سے گزر سکیں ۔ چنانچہ جب لڑکے نے پتھر مارا تو وہ جانور اس کے پتھر سے مر گیا۔پھر اس نے راہب کے پاس جا کراسے اس واقعے کی خبر دی تو اس نے کہا:اے بیٹے! آج تم مجھ سے افضل ہو گئے ہو،تمہارا مرتبہ وہاں تک پہنچ گیا ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں ۔ عنقریب تم مصیبت میں گرفتار ہو گے اور جب تم مصیبت میں گرفتار ہو تو کسی کو میرا پتا نہ دینا۔ (اس کے بعد اس لڑکے کی دعائیں قبول ہونے لگیں ) اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض اچھے ہونے لگ گئے اور وہ تمام بیماریوں کا علاج کرنے لگا ۔ بادشاہ کا ایک ساتھی نابینا ہوگیا تھا ،اس نے جب یہ خبر سنی تو وہ اس لڑکے کے پاس بہت سے تحائف لے کر آیااور اس سے کہا:اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو میں یہ سب چیزیں تمہیں دے دوں گا۔لڑکے نے کہا:میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفاتو اللّٰہ تعالیٰ دیتا ہے،اگر تم اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ تو میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعاکروں گا اور وہ تمہیں شفا عطا کرد ے گا۔ چنانچہ وہ اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آیاتو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔جب وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح ا س کے پاس بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا:تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہے؟اس نے کہا: میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ۔بادشاہ نے کہا:کیا میرے سوا تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا :ہاں ! میرا اور تمہارا رب اللّٰہ تعالیٰ ہے۔یہ سن کر بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک ا س نے لڑکے کا پتا نہ بتا دیا۔پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹے!تمہارا جادو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ تم مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کر دیتے ہو،برص کے مریضوں کو تندرست کر دیتے ہو اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کرتے ہو۔اس لڑکے نے کہا:میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو میرا اللّٰہ تعالیٰ دیتا ہے۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک ا س نے راہب کا پتا نہ بتا دیا۔پھر راہب کو لایا گیا اورا س سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔راہب نے انکار کیا تو بادشاہ نے آرا منگوا کر ا س کے سر کے درمیان رکھا اور اسے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔ پھراس نے اپنے ساتھی کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے