اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمنوں کے ساتھ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا کردار:
اس آیت میں مخلص ایمان والوں کا ایک وصف یہ بیان ہواکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے دوستی نہیں کرتے اگرچہ وہ ان کے کیسے ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں ،چنانچہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر کے دکھایاکہ انہیں اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے رسول کے مقابلے میں رشتے داری کا کوئی لحاظ نہیں ، چنانچہ منقول ہے کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگ ِاُحد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگ ِبدرکے دن اپنے بیٹے عبدالرحمن کو لڑائی کیلئے طلب کیا لیکن رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی۔حضرت معصب بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا ۔ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو جنگ ِبدرکے دن قتل کیا۔حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ، حضرت حمزہ اور حضرت ابوعبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جوان کے رشتہ دار تھے ۔( بغوی، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴/۲۸۵)
اس آیت سے ان لوگوں کودرسِ عبرت حاصل کرناچاہیے جواپنے دُنْیَوی مفادات کی خاطر صلحِ کُلیّت کے قائل ہوتے ہیں اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمنوں کے ساتھ دوستیاں نبھاتے ہیں ۔