Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
59 - 881
اور اس کے ایمان کے تقاضوں  کے بر خلاف ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :اس آیت ِکریمہ میں  صاف فرمادیا کہ جو اللّٰہ یا رسول کی جناب میں  گستاخی کرے،مسلمان اُس سے دوستی نہ کرے گا ، جس کا صریح مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے گا وہ مسلمان نہ ہوگا۔ پھر اس حکم کا قطعاً عام ہونا بالتَّصریح ارشاد فرمایا کہ باپ، بیٹے ،بھائی ،عزیز سب کوگِنا یا، یعنی کوئی کیسا ہی تمہارے زعم میں  مُعَظَّم یا کیسا ہی تمہیں  بالطَّبع محبوب ہو، ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اس سے محبت نہیں  رکھ سکتے، اس کی وقعت نہیں  مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔ مَولٰی سُبْحَانَـہٗ وَ تَعَالٰی  کا اتنا فرمانا ہی مسلمان کے لئے بس تھا مگردیکھو وہ تمہیں  اپنی رحمت کی طرف بلاتا،اپنی عظیم نعمتوں  کا لالچ دلاتا ہے کہ اگر اللّٰہ ورسول کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا کسی سے علاقہ نہ رکھا تو تمہیں  کیا کیا فائدے حاصل ہوں  گے۔
(1)…اللّٰہ تعالیٰ تمہارے دلوں  میں  ایمان نقش کردے گا جس میں   اِنْ شَآءَ اللّٰہُ تَعَالٰی  حسن ِخاتمہ کی بشارتِ جلیلہ ہے کہ اللّٰہ  کا لکھا نہیں  مٹتا۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ روح القدس سے تمہاری مددفرمائے گا۔
(3)…تمہیں  ہمیشگی کی جنتوں  میں  لے جائے گاجن کے نیچے نہریں  رواں  ہیں  ۔
(4)…تم خدا کے گروہ کہلاؤگے ، خدا والے ہوجاؤگے۔
(5)…منہ مانگی مرادیں  پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کروڑوں  درجے افزوں ۔
(6)…سب سے زیادہ یہ کہ اللّٰہ  تم سے راضی ہوگا۔
(7)…یہ کہ فرماتاہے ’’میں  تم سے راضی تم مجھ سے راضی ،بندے کیلئے اس سے زائد او رکیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر انتہائے بندہ نوازی یہ کہ فرمایا اللّٰہ ان سے راضی اور وہ اللّٰہ سے راضی ۔
	مسلمانو!خدا لگتی کہنا اگر آدمی کروڑجانیں  رکھتا ہو اوروہ سب کی سب ان عظیم دولتوں  پر نثار کردے تووَاللّٰہ کہ مفت پائیں  ، پھرزیدوعمرو سے علاقۂ تعظیم و محبت،یک لخت قطع کردینا کتنی بڑی بات ہے؟ جس پر اللّٰہ تعالیٰ ان بے بہا نعمتوں  کا وعدہ فرمارہاہے اور اس کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔(فتاوی رضویہ، رسالہ: تمہید ایمان بآیات قرآن، ۳۰/۳۱۲)