Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
61 - 881
سورۂ حشر
سورۂ حشر کا تعارف
مقامِ نزول:
	 سورئہ حشر مدینہ منورہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الحشر، ۴/۲۴۴)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	اس سورت میں  3رکوع، 24آیتیں  ہیں ۔
’’حشر ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	حشر کا معنی ہے لوگوں  کو اکٹھا کرنا اور اس سورت کی دوسری آیت میں  بنو نَضِیر کے یہودیوں  کے پہلے حشر یعنی انہیں  اکٹھا کر کے مدینے سے نکال دئیے جا نے کا ذکر کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ حشر‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ حشر کی فضیلت:
	حضرت معقل بن یسار  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جس نے صبح کے وقت تین مرتبہ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ کہا اور سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کی تو اللّٰہ تعالیٰ 70,000 فرشتے مقرر کر دیتا ہے جوشام تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں  اور اگر اسی دن انتقال کر جائے تو شہید کی موت مرے گا اور جو شخص شام کے وقت اُسے پڑھے تو اس کا بھی یہی مرتبہ ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن،۲۲- باب، ۴/۴۲۳، الحدیث:۲۹۳۱)
سورۂ حشر کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  بنو نَضِیر کے یہودیوں  کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کے بارے