بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: قسم آسمان کی جس میں بُرج ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: برجوں والے آسمان کی قسم۔
{وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ: برجوں والے آسمان کی قسم۔} آسمان میں موجود برجوں کی تعداد بارہ ہے اور ان کی قسم اس لئے ارشاد فرمائی گئی کہ ان میں اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت کے عجائبات نمودار ہیں جیسے سورج،چاند اور ستاروں کاان بُروج میں ایک مُعَیَّن اندازے پر چلنااور اس چال میں اِختلاف نہ ہونا وغیرہ۔( خازن، البروج، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۶۴)
نوٹ: ان بُروج کی تفصیل سورۂ فرقان کی آیت نمبر61میں بیان ہو چکی ہے۔امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے لکھے ہوئے مشہور کلام ’’قصیدۂ نور‘‘ میں انہی بارہ برجوں کا ذکر کر کے اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی شان اس طرح بیان کرتے ہیں :
بارہویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا بارہ برجوں سے جھکا ایک اک ستارہ نور کا
وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ(۲) وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ(۳)