پائے گا۔( خازن، الانشقاق، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۵، ۴/۳۶۳، مدارک، الانشقاق، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۵، ص۱۳۳۴، ملتقطاً)
آخرت سے غفلت اور بے فکری انتہائی نقصان دِہ ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دنیا کی رنگینیوں میں مشغول ہو کر اپنی آخرت سے غافل اور بے فکرہو جائے اور اس کی بہتری کے لئے کوشش نہ کرے تو وہ آخرت میں بہت نقصان اٹھا ئے گا اور ایسا شخص دنیا میں بھی نقصان ہی اٹھاتا ہے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جسے آخرت کی فکر ہو اللّٰہ تعالیٰ ا س کا دل غنی کر دیتا ہے اور ا س کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل لونڈی بن کر آتی ہے اور جسے دنیا کی فکر ہو، اللّٰہ تعالیٰ محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے، اس کے جمع شدہ کاموں کو مُنتشر کر دیتا ہے اور دنیا (کے مال) سے بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لئے مقدر ہے۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، ۳۰-باب، ۴/۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۳)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دنیا کے عیش و عشرت میں کھو کر اپنی آخرت سے غافل اور بے فکر ہونے سے بچائے اور اپنی آخرت بہتر بنانے کے لئے خوب کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ(۱۶) وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ(۱۷) وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو مجھے قسم ہے شام کے اُجالے کی۔اور رات کی اور جو چیزیں اس میں جمع ہوتی ہیں ۔اور چاند کی جب پورا ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو مجھے شام کے اجالے کی قسم ہے۔ اور رات کی اور ان چیزوں کی جنہیں رات جمع کر دے۔ اور چاند کی جب اس کا نورپورا ہوجائے۔
{فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ: تو مجھے شام کے اجالے کی قسم ہے۔} اس آیت سے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چند چیزوں کی قسم ارشاد فرمائی ہے تاکہ لوگ ان میں غور و فکر کر کے عبرت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوں ۔