دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ(۱۳) لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا‘‘(فرقان:۱۳،۱۴)
جگہ میں زنجیروں میں جکڑکر ڈالا جائے گا تو وہاں موت مانگیں گے۔(فرمایا جائے گا) آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں مانگو۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ایمان پر ہی خاتمہ نصیب فرمائے اور قیامت کی ہَولْناکیوں اور جہنم کے عذابات کی شدّتوں سے ہمیں نجات عطا فرمائے ،اٰمین۔
اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۱۳) اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ(۱۴) بَلٰۤىۚۛ-اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ اپنے گھر میں خوش تھا۔وہ سمجھا کہ اُسے پھرنا نہیں ۔ہاں کیوں نہیں بیشک اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔ بیشک اس نے سمجھا کہ وہ ہرگز واپس نہیں لوٹے گا۔ ہاں ، کیوں نہیں ! بیشک اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔
{اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا: بیشک وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کافر کا یہ حال اس لئے ہو گا کہ وہ دنیا کے اندراپنے گھر میں اپنی خواہشوں ، شہوتوں ،تکبر اور غرور میں خوش تھا،اس نے یہ سمجھ رکھا تھاکہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف نہیں لوٹے گااور وہ مرنے کے بعد اُٹھایا نہ جائے گا اور جیسا اس نے گمان کیا تھا درحقیقت ویسا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ ضرور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹے گااور مرنے کے بعد اسے اُٹھایاجائے گا اور اس کے اعمال کا حساب کیا جائے گا،بیشک اس کا رب عَزَّوَجَلَّ اس کے کفر اور تمام گناہوں کودیکھ رہا ہے اور اس کا کوئی عمل اللّٰہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں لہٰذا وہ بہر حال اللّٰہ تعالیٰ کی طرف لوٹے گا اور اپنے اعمال کی جزا