Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
592 - 881
شَفق سے کیا مراد ہے؟
	 امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نزدیک شفق سے مراد وہ اجالا ہے جو مغرب کی جانب سرخی ختم ہونے کے بعد شمال اور جنوب کی طرف نمودار ہوتا ہے اوراس اجالے کے غائب ہونے پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نزدیک مغرب کی نماز کا وقت ختم ہوتا اورعشاء کی نمازکا وقت شروع ہوتا ہے اور یہی کثیر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَکابر تابعین اور تبعِ  تابعین کا قول ہے اور بعض علماء شَفق سے وہی سرخی مراد لیتے ہیں  جو سورج غروب ہونے کے بعد اُفق میں  نمودار ہوتی ہے۔
{وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَ: اور رات کی اور ان چیزوں  کی جنہیں  رات جمع کردے۔} یعنی رات کی قسم اور ان چیزوں  کی قسم، جنہیں  رات جمع کر دیتی ہے۔ ان چیزوں  سے مراد یا توجانور ہیں جو کہ دن میں  مُنتشر ہوتے ہیں  اور رات میں  اپنے آشیانوں  اور ٹھکانوں  کی طرف چلے آتے ہیں  یا ان سے مراد وہ اعمال ہیں  جو رات میں  کئے جاتے ہیں  جیسے تہجد کی نماز کہ یہ رات میں  ادا کی جاتی ہے یا ان سے مراد تاریکی اور ستارے ہیں  کہ یہ رات میں  جمع ہوتے ہیں ۔( خازن، الانشقاق، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴/۳۶۴، مدارک، الانشقاق، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۱۳۳۴، ملتقطاً)
{وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ: اور چاند کی جب اس کا نور پورا ہوجائے۔} یعنی چاند کی قسم! جب وہ پورا ہوجائے اور اس کا نور کامل ہوجائے۔ چاند کا نور اَیّامِ بِیض یعنی قَمری مہینے کی تیرھویں،چودھویں  اورپندرھویں  تاریخ میں  کامل ہوتا ہے۔( خازن، الانشقاق، تحت الآیۃ: ۱۸، ۴/۳۶۴، ملخصاً)
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ(۱۹) فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: ضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے۔ تو کیا ہوا ایمان نہیں  لاتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ضرور تم ایک حالت کے بعد دوسری حالت کی طرف چڑھو گے۔ توانہیں  کیا ہواکہ وہ ایمان نہیں  لاتے۔
{لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ: ضرور تم ایک حالت کے بعد دوسری حالت کی طرف چڑھو گے۔} یہ اس سے اوپر آیات میں  مذکور قَسموں  کا جواب ہے ۔بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  عام انسانوں  سے خطاب ہے اور ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چڑھنے سے مراد یہ ہے کہ اے لوگو! تمہیں  ایک حال کے بعد دوسرا حال پیش آئے گا۔ان