ترجمۂکنزالایمان: تو وہ جو اپنا نامۂ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے۔اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا ۔اور اپنے گھر والوں کی طرف شاد شاد پلٹے گا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو بہر حال جسے اس کا نامہ ٔاعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوشی خوشی پلٹے گا۔
{فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ: تو بہر حال جسے اس کا نامہ ٔاعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن جسے اس کا نامۂ اَعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ حساب کے بعد اپنے جنتی گھر والوں کی طرف اپنی اس کامیابی پرخوشی خوشی پلٹے گا۔ (خازن، الانشقاق، تحت الآیۃ: ۷-۹، ۴/۳۶۳)
قیامت کے دن ایمان والوں کے حساب کی صورتیں :
یاد رہے کہ قیامت کے دن بعض اہلِ ایمان ایسے ہوں گے کہ جنہیں اعمال نامہ دیا ہی نہیں جائے گا اور وہ بغیر حساب کتاب کے سیدھے جنت میں چلے جائیں گے اور بعض اہلِ ایمان ایسے ہوں گے کہ جب وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے توان سے تحقیق اور جَرح والا حساب نہیں ہو گا بلکہ صرف ان کے اعمال ان پر پیش کئے جائیں گے، وہ اپنی نیکیوں اورگناہوں کو پہچانیں گے، پھر انہیں نیکیوں پر ثواب دیا جائے گااوران کے گناہوں سے درگزرکیا جائے گا۔ یہ وہ آسان حساب ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے کہ نہ شدید اعتراضات کر کے اعمال کی تنقیح ہو، نہ یہ کہا جائے کہ ایسا کیوں کیا، نہ عذر طلب کیا جائے، نہ اس پر حجت قائم کی جائے کیونکہ جس سے مطالبہ کیا گیا تو اسے کوئی عذر ہاتھ آئے گا اور نہ وہ کوئی حجت پائے گا اس طرح وہ رسوا ہو جائے گا،اور بعض اہلِ ایمان ایسے ہوں گے کہ جب وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو ان کے ہر عمل کی پوچھ گچھ ہوگی،ان کاکوئی گناہ نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور انہیں برے اعمال کی سزا کاٹنے کے لئے ایک مخصوص مدت تک جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں