Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
586 - 881
ایسا کرے گا تو ا س میں  اسی کا بھلا اور فائدہ ہے ،اور نہیں  کرے گا تو سراسر نقصان بھی اسی کا ہے جیساکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗۚ-وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَ‘‘(روم:۴۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پرہے اور جو اچھا کام کریں  وہ اپنے ہی کے لئے تیاری کر رہے ہیں ۔
	اور ارشاد فرماتا ہے : ’’وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ‘‘(عنکبوت:۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کوشش کرے تو اپنے ہی فائدےکے لئے کوشش کرتا ہے،بیشک اللّٰہ سارے جہان سےبے پرواہ ہے۔
	اورجنہوں  نے اللّٰہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے عمل کئے ان کے بارے میں  ارشاد فرماتا ہے : ’’فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ(۲۷) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ‘‘(سورہ محمد:۲۷،۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کے منہ اور ان کی پیٹھوں  پر ضربیں  مارتے ہوئے ان کی روح  قبض کریں  گے۔ یہ اس لیے ہے کہ انہوں  نے اللّٰہ کو ناراض کرنے والی بات کی پیروی کی اور انہوں  نے اللّٰہ کی خوشنودی کو پسند نہ کیا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔
	اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  اپنی رضا والے کام کرنے کی اور ناراض کر دینے والے کاموں  سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ(۷) فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸) وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۹)