قیامت کے دن آسان حساب لئے جانے کی دعا مانگا کرے۔حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں ، میں نے ایک مرتبہ نماز کے بعدنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کویہ دعا مانگتے ہوئے سنا ’’اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا‘‘ اے اللّٰہ ! مجھ سے آسان حساب لے۔جب نماز سے فارغ ہو کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ واپس ہوئے تو میں نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ارشاد فرمایا’’اس سے مراد یہ ہے کہ بس بندے کے اعمال نامے کو دیکھا جائے اور ا س کے گناہوں کو نظر اندازکر دیا جائے۔ اے عائشہ! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، قیامت کے دن جس سے اعمال کے حساب کے معاملے میں جَرح کی گئی تو وہ ہلاک (یعنی عذاب میں گرفتار) ہو جائے گا۔ (مسند امام احمد، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، ۹/۳۰۳، الحدیث: ۲۴۲۷۰)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اور ان کے ہی الفاظ میں ہم بھی اسی کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں :
ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے اس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے
ان کی امت میں بنایا انہیں رحمت بھیجا یوں نہ فرما کہ ترا رحم میں دعویٰ کیا ہے
صدقہ پیارے کی حیاء کا کہ نہ لیمجھ سے حساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ(۱۰) فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ(۱۱)وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے۔وہ عنقریب موت مانگے گا۔اور بھڑکتی آگ میں جائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رہا وہ جسے اس کا نامہ ٔاعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔تووہ عنقریب موت مانگے گا۔ اور