Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
585 - 881
{اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ: جب آسمان پھٹ جائے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی 4آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت قائم ہونے کے وقت جب آسمان پھٹ جائے گااور وہ اپنے پھٹنے کے بارے میں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے گا اورا س کی اطاعت کرے گا اور اسے یہی لائق ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے اوراس کی اطاعت کرے اور جب زمین کوبرابر کرکے دراز کر دیا جائے گا اور اس پر کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا اور زمین اپنے اندر موجود سب خزانے اورمردے باہرڈال دے گی اور خزانوں  اور مُردوں  سے خالی ہوجائے گی اور وہ اپنے اندر کی چیزیں  باہر پھینک دینے کے بارے میں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے گی اور اس کی اطاعت کرے گی اور اسے یہی لائق ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سنے اور اس کی اطاعت کرے تو اس وقت انسان اپنے عمل کا نتیجہ ثواب اور عذاب کی صورت میں  دیکھ لے گا۔( خازن، الانشقاق، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴/۳۶۳)
یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اے آدمی بیشک تجھے اپنے رب کی طرف یقینی دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف دوڑنے والا ہے پھر اس سے ملنے والا ہے۔
{یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ: اے انسان!} اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے انسان !تو اپنی موت آنے تک اچھے یا برے عمل کرنے میں  محنت و مشقت کر تارہتاہے،پھر مرنے کے بعد تجھے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  (اپنے اعمال کا حساب دینے کے لئے) ضرور حاضر ہونا ہے اور تو نے دنیا میں  جیسے عمل کئے ہوں  گے انہی کے مطابق تمہیں  اس کی بارگاہ سے جزا ملے گی۔
اللّٰہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے عمل کریں  اور ناراض کرنے والے اعمال سے بچیں :
 	ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اس آیت میں  غور کرے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اورموت آنے سے پہلے پہلے ایسے عمل کر لے جن کے ذریعے وہ اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی سے نجات پا جائے اور اسے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے اور ایسے عمل کر نے سے خود کو بچا لے جن کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاکت میں  پڑجائے۔ اگر وہ