کا سامنا کریں گے۔
(5)…اس سورت کے آخر میں کفار و مشرکین اور مُلحدوں وغیرہ کی ایمان قبول نہ کرنے پر سرزَنِش کی گئی اور دردناک عذاب سے ڈرایا گیا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو انہیں دائمی ثواب کامُژدہ سنایا گیا۔
سورۂ مُطَفِّفِینْ کے ساتھ مناسبت:
سورۂ اِنشقاق کی اپنے سے ما قبل سورت ’’مُطَفِّفِینْ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ مُطَفِّفِینْ میں اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس سورت میں اعمال نامہ لوگوں کے ہاتھ میں دئیے جانے کا ذکر ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲) وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ(۳) وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ(۴) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے۔اور جب زمین دراز کی جائے۔اور جو کچھ اس میں ہے ڈال دے اور خالی ہوجائے ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب آسمان پھٹ جائے گا ۔اور وہ اپنے رب کا حکم سنے گااور اسے یہی لائق ہے۔اور جب زمین کو دراز کر دیا جائے گا۔اور جو کچھ اس میں ہے زمین اسے (باہر) ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی۔اور وہ اپنے رب کا حکم سنے گی اور اسے یہی لائق ہے۔