Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
578 - 881
پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:’’ جب اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں  کو اپنے دیدار سے محروم کیا تو دوستوں  کو اپنی تجلّی سے نوازے گا اور اپنے دیدار سے سرفراز فرمائے گااورحضرت امام شافعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس آیت کے بارے میں  فرماتے ہیں : ’’یہ آیت ا س بات کی دلیل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندے اس کا دیدار کریں  گے۔( خازن، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴/۳۶۱)
ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ(۱۶) ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ(۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: پھر بے شک انہیں  جہنم میں  داخل ہونا۔پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جسے تم جھٹلاتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر بیشک وہ ضرور جہنم میں  داخل ہونے والے ہیں ۔پھر کہا جائے گا: یہ وہ ہے جسے تم جھٹلاتے تھے۔
{ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ: پھر بیشک وہ ضرور جہنم میں  داخل ہونے والے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہونے کے بعد جہنم میں  داخل کر دئیے جائیں گے ،پھران سے جہنم کے خازن کہیں  گے کہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم دنیا میں  جھٹلاتے تھے اور ا س کے واقع ہونے کا انکار کرتے تھے۔( مدارک، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۷، ص۱۳۳۰)
كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ(۱۸) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ(۱۹) كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ(۲۰)یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: ہاں  ہاں  بے شک نیکوں  کی لکھت سب سے اونچے محل عِلِّیّین میں  ہے اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے وہ لکھت ایک مُہر کیا نوشتہ ہے کہ مُقرب جس کی زیارت کرتے ہیں  ۔