Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
577 - 881
اعمال کی شامت سے ان کے دل زنگ آلود اور سیاہ ہو گئے ہیں  اسی وجہ سے وہ حق کو پہچان نہیں  سکتے۔( روح البیان، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۸، ۱۰/۳۶۷۔)
 گناہ دل کو میلا کردیتے ہیں :
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ گناہ دل کو میلا کرتے ہیں  اور گناہوں  کی زیادتی دل کے زنگ کا باعث ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں  ایک سیاہ نقطہ پیدا ہوتا ہے، جب اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور توبہ واِستغفار کرلیتا ہے تو اس کادل صاف ہوجاتا ہے اور اگر پھر گناہ کرتا ہے تو وہ نقطہ بڑھتا ہے یہاں  تک کہ پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور یہی رَان  یعنی وہ زنگ ہے جس کا اس آیت میں  ذکر ہوا۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ویل للمطفّفین، ۵/۲۲۰، الحدیث: ۳۳۴۵)
كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان:  ہاں  ہاں  بے شک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  یقینابیشک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے ضرور محروم ہوں  گے۔
{كَلَّاۤ: یقینا۔} یعنی یقینابیشک وہ کفارقیامت کے دن اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے دیدار سے اسی طرح محروم ہوں  گے جس طرح دنیا میں  اس کی توحید کا اقرار کرنے سے محروم رہے۔
ایمان والوں  کوآخرت میں  اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار کی نعمت نصیب ہو گی:
	اس آیت سے ثابت ہوا کہ مؤمنین کو آخرت میں  اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار کی نعمت مُیَسَّر آئے گی کیونکہ دیدار سے محرومی کفار کے لئے وعید کے طور پر ذکر کی گئی اور جو چیز کفار کے لئے وعید اور تہدید ہو وہ مسلمان کے حق میں  ثابت نہیں  ہو سکتی ورنہ کافروں  کی وہ خاص سزا ہی کیا جواُن کے ساتھ مسلمانوں  کو بھی برابر مل رہی ہو،تواس سے لازم آیا کہ مؤمنین کے حق میں  اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار سے محرومی نہیں  ہے ۔ حضرت امام مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس آیت کے بارے میں