کے حساب و کتاب اور ان کی جزاء کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے تو اس وقت ان کا حال کیا ہو گا،اس سے متعلق درج ذیل3اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ بشیر نام کا ایک آدمی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں بیٹھا کرتا تھا،ایک مرتبہ وہ تین دن بعد بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ا س کی بدلی ہوئی رنگت دیکھ کر ارشاد فرمایا’’اے بشیر! تیرا رنگ کیسے تبدیل ہو گیا؟اس نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، میں نے ایک اونٹ خریدا تھا، وہ مجھ سے بھاگ گیا تو میں تین دن تک اس کی تلاش میں لگا رہا اور میں نے ا س کے بارے میں کوئی شرط بھی نہیں رکھی تھی۔حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بھاگے ہوئے اونٹ کو تو واپس لوٹایا جا سکتا ہے،کیا اس کے علاوہ کسی اور چیز نے تیرا رنگ تو نہیں بدلا؟اس نے عرض کی :نہیں ۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ (آج تین دن تک اونٹ تلاش کرنے کی وجہ سے تیرا یہ حال ہو گیا ہے) تو اس دن تیرا کیا حال ہو گا جس کی مقدار 50,000سال ہے اور اس دن سب لوگ ربُّ العالَمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔( کنز العمال، کتاب البیوع، قسم الافعال، الرّد بالعیب، ۲/۶۳، الجزء الرابع، الحدیث: ۹۹۵۰)
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس دن تمام انسان پروردگارِ عالَم کے حضور کھڑے ہوں گے تو کوئی اس حال تک پہنچا ہوا ہو گا کہ کانوں کی لَو تک اپنے پسینے میں غرق ہو گا۔( بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ ویل للمطفّفین، باب یوم یقوم الناس۔۔۔ الخ، ۳/۳۷۴، الحدیث: ۴۹۳۸)
(3)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کی:مجھے خبر دیجئے کہ قیامت کے اس دن کھڑے ہونے پر کون قدرت رکھے گا جس کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ ’’یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن سب لوگ رب العالمین کےحضور کھڑے ہوں گے۔