Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
573 - 881
ایک سے غلہ ناپ کر لیتا تھا اور دوسرے سے غلہ ناپ کر دیتا تھا۔حضرت مالک بن دینا ر رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’میں  نے ان دونوں  پیمانوں  کو منگوایا اور انہیں  ایک دوسرے پر رکھ کر توڑ دیا ،پھر میں  نے اس شخص سے پوچھا کہ اب تمہارا کیا حال ہے؟اس نے جواب دیا میرے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہے بلکہ اب پہلے سے زیادہ خراب ہو گیا ہے۔( منہاج العابدین،العقبۃ الخامسۃ، اصول سلوک طریق الخوف والرجاء، الاصل الثالث، ص۱۶۶)
	اللّٰہ تعالیٰ سب مسلمانوں  کو صحیح ناپنے اور تولنے کی توفیق عطا فرمائے۔
{اَلَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ: وہ لوگ کہ جب دوسرے لوگوں  سے ناپ لیں  توپورا وصول کریں ۔} یہ ایک اَخلاقی تنبیہ ہے کہ جب یہ خود لیتے ہیں  تو پورا وصول کرتے ہیں  لیکن دوسروں  کو دیتے ہوئے ڈنڈی مارتے ہیں  جبکہ صحیح انسان وہ ہے جو دوسروں  کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اپنے ساتھ دوسرے کا چاہتاہے۔حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم میں  سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں  ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔( بخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحبّ لاخیہ ما یحبّ لنفسہ، ۱/۱۶، الحدیث: ۱۳)
{وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَ: اور جب انہیں  ناپ یا تول کردیں  توکم کردیں ۔} ناپ تول میں  کمی کرنے کی تمام صورتیں  ا س آیت میں  داخل ہیں  جیسے کپڑا ناپتے وقت لچک دار کپڑے کو کھینچ کر ناپنا،الاسٹک کو کھینچ کر ناپنا،باٹ کم رکھنا، باٹ تو پورا ہو لیکن تولنے میں  ڈنڈی مار دینا، چیز کو زور سے ترازو میں  رکھ کر فوراً اٹھا لینا،ترازو کے پلڑوں  میں  فرق رکھنا،ترازو کے جس حصے میں  باٹ رکھے جاتے ہیں  ا س کے نیچے کوئی چیز لگا دینا ،وزن کرنے کے الیکٹرونک آلات کی سیٹنگ میں  یا میٹر میں  تبدیلی کر کے کم تول کے دینا وغیرہ۔
{یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ: جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں  گے۔} یعنی جس دن سب لوگ اپنے اعمال کے حساب اور ان کی جز اکے لئے رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں  گے اس دن ان لوگوں  کا ناپ تول میں  کمی کرنا اور ان کی جزا ظاہر ہو جائے گی۔( جلالین، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۶، ص۴۹۳، روح البیان، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۶، ۱۰/۳۶۵، ملتقطاً)
ربُّ العالَمین کی بارگاہ میں  کھڑے ہوتے وقت لوگوں  کا حال:
	قیامت کے دن جب لوگ اپنی اپنی قبروں  سے نکلیں  گے اور حشر کے میدان میں  جمع ہوں  گے ،پھر اپنے اعمال