’’وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ(۷) اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ(۸) وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ‘‘(الرحمن:۷۔۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آسمان کو اللّٰہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی۔ کہ تولنے میں نا انصافی نہ کرو۔اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ۔
اور ارشاد فرمایا: ’’لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ‘‘(حدید:۲۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں ۔
اور صحیح ناپنے تولنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا‘‘(بنی اسرائیل:۳۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ماپ کرو تو پورا ماپ کرو اور بالکل صحیح ترازو سے وزن کرو ۔یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔
صحیح ناپنے اور تولنے کا انجام دنیا میں بھی بہتر ہوتا ہے کہ اس سے لوگوں کا اعتبار قائم رہتا ہے، تجارت میں خوب اضافہ ہوتا ہے اور رزق میں برکت ہوتی ہے اور آخرت میں بھی یقینا بہتر ہو گا کہ اِس حوالے سے لوگوں کا اُس پر کوئی حق نہیں ہوگا اور یوں لوگ اپناحق طلب کرنے کے لئے اسے نہیں پکڑیں گے ،یہ حرام رزق کھانے اور کھلانے کے عذاب سے بچ جائے گا اور ا س کے نیک اعمال محفوظ رہیں گے اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ان کے لئے زیرِ تفسیر آیات میں سخت وعید ہے اور ایسے لوگوں کے لئے درج ذیل حکایت میں بھی بڑی عبرت ہے،چنانچہ
حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ میں اپنے ایک پڑوسی کے پاس اس کے انتقال کے وقت گیا تو ا س نے مجھے دیکھ کر کہا: ’’اے مالک بن دینار! رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ، اس وقت مجھے اپنے سامنے آگ کے دو پہاڑ نظر آ رہے ہیں اور مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ ان پہاڑوں پر چڑھو لیکن ان پر چڑھنا میرے لئے دشوار ہے۔میں نے اس کے گھر والوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان لوگوں نے بتایا کہ اس کے پاس غلہ ناپنے کے دو پیمانے ہیں ،