قیامت کے دن سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے :
یاد رہے کہ اس آیت میں اگرچہ کفار کا حال بیان ہوا ہے کہ انہیں قیامت کے دن کوئی دوسرا کافر یا مسلمان نفع نہیں پہنچا سکے گا،البتہ اس دن کی سختیوں ،ہَولْناکیوں اور شدّتوں کے پیش ِنظر مسلمانوں کو بھی ا س سے ڈرنا چاہئے، چنانچہ ایک مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ ‘‘(بقرہ:۴۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس دن سے ڈروجس دن کوئی جان کسی دوسرے کی طرف سے بدلہ نہ دے گی اور نہ کوئی سفارش مانی جائے گی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مددکی جائے گی۔
اور ارشاد فرماتا ہے : ’’وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِۗ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ‘‘(بقرہ:۲۸۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس دن سے ڈروجس میں تم اللّٰہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر جان کو اس کی کمائی بھرپوردی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔
اور ارشاد فرماتا ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ٘-وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاٙ-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ‘‘(لقمان:۳۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنی اولاد کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دینے والاہوگا۔ بیشک اللّٰہکا وعدہ سچا ہے تو دنیا کی زندگی ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے اور ہرگز بڑا دھوکہ دینے والا تمہیں اللّٰہ کے علم پر دھوکے میں نہ ڈالے۔
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’قیامت کا د ن وہ دن جس میں کوئی شک نہیں ۔یہ وہ دن ہے جس میں چھپی باتوں (جیسے عقائد، اعمال اور نیتوں ) کو جانچا جائے گا۔اس دن کوئی (کافر) جان کسی دوسرے کی طرف سے بدلہ نہ دے گی۔اس دن (کی ہولناکی اور شدت سے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔اس دن کوئی دوست کسی دوست کے