وَ الْاَمْرُ یَوْمَىٕذٍ لِّلّٰهِ۠(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک نکو کار ضرور چین میں ہیں اور بے شک بدکار ضرور دوزخ میں ہیں انصاف کے دن اس میں جائیں گے اور اس سے کہیں چھپ نہ سکیں گے اور تو کیا جانے کیسا انصاف کا دن پھر تو کیا جانے کیسا انصاف کا دن جس دن کوئی جان کسی جان کا کچھ اختیار نہ رکھے گی اور سارا حکم اس دن اللّٰہ کا ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک نیک لوگ ضرور چین میں (جانے والے) ہیں ۔ اور بیشک بدکار ضرور دوزخ میں ہیں ۔ انصاف کے دن اس میں جائیں گے۔اور اس سے کہیں چھپ نہ سکیں گے۔اور تجھے کیا معلوم کہ انصاف کا دن کیا ہے؟ پھر تجھے کیا معلوم کہ انصاف کا دن کیا ہے؟جس دن کوئی جان کسی جان کے لئے کچھ اختیار نہ رکھے گی اور سارا حکم اس دن اللّٰہ کا ہوگا۔
{اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ: بیشک نیک لوگ ضرور چین میں ہیں ۔} اس سے پہلی آیات میں بندوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے بارے میں بیان کیاگیا اور اب یہاں سے عمل کرنے والوں کے احوال بیان کئے جا رہے ہیں ، چنانچہ اس آیت اورا س کے بعد والی 6آیات میں ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے کے ذریعے اپنے ایمان کو سچا کر دکھایا ،یہ ضرور نعمتوں سے بھرپور جنت میں جانے والے ہیں اور بیشک کافر لوگ ضرور جلا کر رکھ دینے والی دوزخ میں جانے والے ہیں اور وہ انصاف کے دن اُس جہنم میں جائیں گے جسے وہ دنیا میں جھٹلاتے رہے، اور اس جہنم سے کہیں چھپ نہ سکیں گے اور اے بندے! تجھے کیا معلوم کہ انصاف کا دن کیا ہے؟ پھر تجھے کیا معلوم کہ انصاف کا دن کیا ہے؟ انصاف کا دن وہ ہے جس دن کوئی کافر جان کسی کافر جان کیلئے کچھ اختیار نہ رکھے گی اوراس دن سارا حکم اللّٰہ تعالیٰ کا ہوگا اور وہی ان کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔( تفسیرکبیر، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۱/۷۹، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۹، ۴/۳۵۹، مدارک، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۹، ص۱۳۲۸، روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۹، ۱۰/۳۶۱-۳۶۲، ملتقطاً)
{یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْــٴًـا: جس دن کوئی جان کسی جان کیلئے کچھ اختیار نہ رکھے گی۔} یعنی قیامت کے دن کوئی کافر کسی کافر کو کچھ نفع پہنچانے کااختیار نہ رکھے گا اور نہ ہی کوئی مسلمان کسی کافر کو فائدہ پہنچا سکے گا۔