الشِّمَالِ قَعِیْدٌ(۱۷) مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ‘‘(ق:۱۷،۱۸)
لیتے ہیں ،ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوا ہے۔ وہ زبان سے کوئی بات نہیں نکالتا مگر یہ کہ ایک محافظ فرشتہ اس کے پاس تیار بیٹھا ہوتا ہے۔
اوران آیات میں ہر اس انسان کے لئے نصیحت ہے جو اپنے اعمال کے حوالے سے انتہائی غفلت کا شکار ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جب اس آیت ’’یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ‘‘ کی تلاوت فرماتے تو کہتے: غافل لوگوں پر اس سے زیادہ سخت کوئی آیت نہیں ۔( مدارک، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۳۲۸)
سورۂ اِنفطار کی آیت نمبر10،11اور12سے معلوم ہونے والی باتیں :
ان آیات سے 6باتیں معلوم ہوئیں :
(1)… انسان کی جان اور ا س کے اعمال کی حفاظت کے لئے فرشتے مقرر ہیں ۔
(2)… فرشتے صرف انسانوں پر مقرر ہیں دیگر مخلوق پر نہیں ۔
(3)… اللّٰہ تعالیٰ کے کام اس کے بندوں کی طرف منسوب ہو سکتے ہیں کیونکہ حافظ و ناصر رب تعالیٰ ہے مگر ارشاد ہوا کہ فرشتے حفاظت کرتے ہیں ۔
(4)… انسان کو بری جگہ نہیں جانا چاہیے تا کہ ہماری وجہ سے ان فرشتوں کو وہاں نہ جانا پڑے۔
(5) …فرشتے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت والے کریم ہیں ۔
(6)… ان پر ہمارے چھپے اورظاہر کوئی عمل پوشیدہ نہیں ، تب ہی تو وہ ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں ۔
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ(۱۳) وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ(۱۴) یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ(۱۵) وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآىٕبِیْنَؕ(۱۶) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ(۱۷) ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ(۱۸) یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْــٴًـاؕ-