Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
555 - 881
فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‘‘(بقرہ:۱۴۴)
بارباراٹھنا دیکھ رہے ہیں  تو ضرور ہم تمہیں  اس قبلہ کی طرف پھیردیں  گے جس میں  تمہاری خوشی ہے تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو۔
	الغرض اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو جو مقام اور مرتبہ حاصل ہے اسے مکمل طور پر بیان نہیں  کیا جا سکتا۔شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ۔
یَا صَاحِبَ الْجَمَالْ وَ یَا سَیِّدَ الْبَشَرْ	مِنْ وَّجْہِکَ الْمُنِیرْ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَرْ
لَا یُمْکِنُ الثَّنَاءُکَمَا کَانَ حَقُّہٗ		بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
	اوراعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
تیرے تو وَصف ’’عیبِ تناہی‘‘ سے ہیں  بَری	حیراں  ہوں  میرے شاہ میں  کیا کیا کہوں  تجھے
کہہ لے گی سب کچھ اُن کے ثناخواں  کی خامشی	چپ ہورہا ہے کہہ کے میں  کیا کیا کہوں  تجھے
لیکن رضاؔ نے ختمِ سخن اس پہ کردیا	خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں  تجھے
{مُطَاعٍ ثَمَّ: وہاں  اس کا حکم مانا جاتا ہے۔} آسمان میں  فرشتے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی اطاعت کرتے ہیں ، جیسے معراج کی رات ان کے کہنے پر فرشتوں  نے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور جنت کے خازن نے جنت کے دروازے کھول دئیے۔( خازن، التکویر، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴/۳۵۷)
	یہ تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی اطاعت کا حال ہے اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی اطاعت کے بارے میں  ارشاد فرماتا ہے:  ’’مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ‘‘(النساء:۸۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللّٰہ کا حکم مانا۔
	 جبکہ حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کے لئے کہیں  نہیں  فرمایا کہ ان کی اطاعت اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔