Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
556 - 881
{اَمِیْنٍ: امانت دار ہے۔} حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام اللّٰہ تعالیٰ کی وحی اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک پہنچانے میں  امانت دار ہیں اورتاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اس وحی کو مخلوق تک پہنچانے میں  امانت دار ہیں ،اللّٰہ تعالیٰ کے اَسرار اور رُموز میں  امانت دار ہیں  اور آپ ایسے امانت دار ہیں  کہ آپ کی جان کے دشمن بھی آپ کو امین کہتے اور اپنی امانتیں  بے خوف و خطر آپ کے پاس رکھوا دیتے تھے۔
وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ(۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے صاحب مجنون نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے صاحب ہرگز مجنون نہیں ۔
{وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍ: اور تمہارے صاحب ہرگز مجنون نہیں ۔} یہ بھی اس سے پہلی آیات میں  مذکور قسم کا جواب ہے کہ کفارِ مکہ جو میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو مجنون کہتے ہیں  ایساہر گز نہیں  ہے۔( خازن، التکویر، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴/۳۵۷)  اس سے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حضورِاَ قدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا مقام و مرتبہ معلوم ہو اکہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی شان میں  گستاخی کفار نے کی اور ان کی گستاخی کا جواب خود رب تعالیٰ نے دیا۔
وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ(۲۳) وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک انہوں  نے اسے روشن کنارہ پر دیکھا اور یہ نبی غیب بتانے میں  بخیل نہیں  ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یقینا بیشک انہوں  نے اسے روشن کنارے پر دیکھا۔اور یہ نبی غیب بتانے پر ہرگز بخیل نہیں ۔
{وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ: اور یقینا بیشک انہوں  نے اسے روشن کنارے پر دیکھا۔} یعنی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ