Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
553 - 881
تھوڑا کرکے قرآن اتارا۔
	 حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ سے اپنا دیدار کروانے کی دعا کی تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ’’لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ-فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا‘‘(اعراف:۱۴۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان:  تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ،البتہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ، یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نو ر چمکایا تواسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ بیہوش ہوکر گر گئے۔
	اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے بارے میں  ارشاد فرمایا: ’’ وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ(۷) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ(۱۰) مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(۱۱) اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى(۱۲) وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ(۱۳) عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(۱۴)عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ(۱۵) اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ(۱۶) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى‘‘(نجم:۷۔۱۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس حال میں  کہ وہ آسمان کے سب سے بلند کنارہ پر تھے۔پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔تو دو کمانوں  کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔دل نے اسے جھوٹ نہ کہا جو (آنکھ نے) دیکھا۔تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو۔اور انہوں  نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ آنکھ نہ کسی طرف پھری اور نہ حد سے بڑھی۔
	ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے زیادہ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو طاقت اور قوت عطا فرمائی ہے ۔
{عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍ: عرش کے مالک کے حضور عزت والا ہے۔} حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  جو عزت مقام اور مرتبہ حاصل ہے وہ کسی اور فرشتے کے پاس نہیں ۔