اور علامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شفاء شریف میں فرماتے ہیں ’’حضرت علی بن عیسیٰ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں ’’رسولِ کریم ‘‘ سے مراد نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ہیں ۔ اس قول کے مطابق اس کے بعد والی آیات میں مذکور اوصاف نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے ہیں اور ان کے علاوہ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں ’’رسولِ کریم‘‘ سے مراد حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں ۔ اس صورت میں اگلی آیات میں مذکور اوصاف حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ہوں گے۔( شفاء شریف، القسم الاول، الفصل الخامس، ص۳۹، الجزء الاول)
{ذِیْ قُوَّةٍ: جو قوت والا ہے۔} حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی قوت کا یہ عالَم ہے کہ انہوں نے حضرتِ لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بستیاں جڑ سے اکھاڑ کر اپنے پروں پر رکھ لیں اور انہیں آسمان کی بلندی تک اٹھا کر پلٹ دیا۔ایک مرتبہ ابلیس کو بیتُ المقدس کی سرزمین پرایک وادی میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کلام کرتے ہوئے دیکھا تو اسے ایک پھونک مار کر ہند کے دور دراز پہاڑوں میں پھینک دیا۔ایک چیخ مار کر حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے دلوں کو پھاڑ دیا اور وہ اس چیخ سے ہلاک ہو گئے۔ان کی طاقت کا یہ حال تھا کہ پلک جھپکنے میں آسمان سے زمین پر تشریف لاتے اور پھر زمین سے آسمان پر پہنچ جاتے۔( خازن، التکویر، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴/۳۵۷)
حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی طاقت:
اب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی طاقت اور قوت کی کچھ جھلک ملاحظہ ہو۔چنانچہ قرآنِ پاک کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ‘‘(حشر:۲۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تم اسے جھکا ہوا، اللّٰہ کے خوف سے پاش پاش دیکھتے۔
اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًا ‘‘(دہر:۲۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے حبیب!) بیشک ہم نے تم پر تھوڑا